پی ٹی آئی کا دوہرا معیار، تیراہ واقعے پر عوام متاثر، سابق وزیر سردار حسین بابک کا بڑا دعویٰ

پشاور:سابق صوبائی وزیر سردار حسین بابک نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیراہ میں عوام بے یار و مددگار ہیں، جبکہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں محض بیان بازی میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دوہرا معیار عوام کے سامنے ہے، بند کمروں میں فیصلوں میں ایک کردار ہوتا ہے اور عوام کے سامنے کچھ اور کہا جاتا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس کو مکمل اختیارات دینا ضروری ہیں کیونکہ پولیس دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی عوام کے مسائل کی بجائے محض ایک قیدی یا جلسوں کی فکر میں مصروف ہیں۔

سردار حسین بابک نے مزید کہا کہ تیراہ کے عوام کو صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم توجہ کا سامنا ہے اور دونوں حکومتیں محض ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چار چار اور تین تین فٹ برفباری کے بعد لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور صورتحال کا نقصان عوام کو پہنچ رہا ہے، جبکہ فائدہ دہشت گردوں کو ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی کشیدگی دونوں ممالک اور خاص طور پر پختون عوام کے لیے نقصان دہ ہے، بارڈرز کھولنے اور تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارتی اور اقتصادی نقصان نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں : تیراہ آپریشن کا پروپیگنڈا کر کے 4 ارب روپے ہڑپنے کی کوشش کی جا رہی ہے، سابق ڈی آئی جی محمد ادریس خان

سردار حسین بابک نے واضح کیا کہ تیراہ کے عوام کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کرنا ضروری ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی زمہ داری قبول کرتے ہوئے عوام کے مسائل حل کریں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی حکومت سہولت کاری اور حمایت میں ملوث ہے اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر اقدامات میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ چاہتی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات درست ہوں تاکہ تجارتی راستے بلا رکاوٹ چلیں اور عوام کو سہولیات فراہم ہوں۔

سردار حسین بابک نے اس موقع پر کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے نہ صرف تیراہ بلکہ پورے پختونخوا میں عوامی مفادات کی نظراندازی کی ہے، جس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔

Scroll to Top