پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی مہم شروع کر دی

اسلام آباد: پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو میں خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لیے پائیدار مذاکرات اور فعال سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عقیدے پر مبنی برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔

مزید برآں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے اور باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

پاکستان امریکہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہے، کیونکہ امکان ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں تہران تک محدود نہیں بلکہ عالمی فورمز، بشمول ورلڈ اکنامک فورم، پر بھی اس معاملے کو اٹھایا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ورلڈ اکنامک فورم میں امریکی عہدیداروں سے اس مسئلے پر بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 2029 تک پاکستان کی برآمدات 60 ارب ڈالرز تک پہنچیں گی، احسن اقبال

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے دھمکی دی ہے اور امریکہ نے اس کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اپنا بحری بیڑا خلیج میں تعینات کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن طریقے سے مسائل کے سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور طاقت کے استعمال یا اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ خطے کی اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام کے لیے کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور اس خطے میں جنگ خطے کی سلامتی اور ترقی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں امن قائم رکھنے اور ممکنہ تصادم کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top