صوبائی صدر عوامی نیشنل پارٹی میاں افتخار حسین نےکہا ہےکہ جیل میں بیمار قیدیوں کا علاج حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ، بانی چیئرمین سمیت کوئی بھی قید شدہ شخص بہترین علاج کا مستحق ہے اور بیماری کے ریکارڈ کی بنیاد پر اسپتال کا ڈاکٹر فیصلہ کرتا ہے کہ مریض کا علاج کہاں سے کرنا ہے۔
پریس کلب پشاور میں گفتگو کرتے ہوئےمیاں افتخار حسین نے کہا کہ ملاقات کے معاملے کو ایسا ایشو نہیں بنایا جانا چاہیے جسے عوام بڑا مسئلہ سمجھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود 1983 کے دوران سیاسی قیدی رہے ہیں اور اس وقت بھی مشکلات کا سامنا کیا۔ بانی چیئرمین کی ملاقات وکلاء، اہل خانہ اور دیگر افراد سے کئی مرتبہ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان بارڈر کھولنا چاہیے تاکہ تجارت جاری رہ سکے۔ بھارت کے ساتھ حالات خراب ہیں لیکن اس کے باوجود واہگہ بارڈر کھلا ہے اور تجارت ہو رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں سے خراب رہے ہیںلیکن پہلے بارڈر بند نہیں کیا جاتا تھا۔بارڈر بندش سے خیبرپختونخوا کو ڈھائی ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جانے چاہیے۔ پاک افغان مسئلے میں ثالثوں سے درخواست ہے کہ بارڈر کھولنے کے اقدامات کیے جائیں۔ افغانستان نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں کوئی طرف داری نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات بگڑ گئے ہیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، پاکستان ایسے فیصلے نہ کرے جن میں عالمی قوتیں ملوث ہوں۔
تیراہ آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ موسم ٹھیک ہو تو علاقہ چھوڑ دیا جائے، لیکن بعد میں کہا گیا کہ علاقہ نہیں چھوڑا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے صوبائی حکومت کو خط لکھا کہ موسم خراب ہونے کے باعث تیراہ کے لوگوں کا بندوبست کیا جائے۔موسم میں گھروں کو چھوڑنے کے دوران پانچ بچے شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہوا اور اس کے باوجود جنرل فیض حمید نے 40 ہزار دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ جنرل فیض اور ان کے ساتھیوں کو آئین کے تحت سزا دی جانی چاہیے ۔
انہوں نے غلام بلور کے حوالے سے کہا کہ غلام بلور نے وضاحت دی کہ تین مرتبہ جیتنے کے باوجود مجھے ہرایا گیا، غلام بلور نے پارلیمانی سیاست چھوڑی ہے لیکن پارٹی اور سیاست نہیں چھوڑی، غلام بلور پر حملے میں 20 ساتھی شہید ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے غلام بلور کو دوسری زندگی دی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے اور امن قائم رکھنے کے لیے باچا خان کے پیروکاروں نے جتنی قربانیاں دی وہ سب کے سامنے ہیں، غلام بلور باچا خان اور ولی خان کے قریبی ساتھی رہے ہیں اور جیلیں کاٹیں ہیں۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب پالیسی ملکی مفاد میں بنائی جائے گی تو ہمیں فائدہ ہوگا، این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد نہیں ہوا اور صوبائی حکومت اپنا حق لینے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ داخلہ، خارجہ اور اقتصادی پالیسی بھی مؤثر طریقے سے بنانی چاہیے تاکہ صوبے اور ملک دونوں کو فائدہ پہنچے۔





