پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور کے باسیوں کے لیے امن و امان کی نئی ضمانت بننے والا سیف سٹی پراجیکٹ آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے، جس کا جلد افتتاح متوقع ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ملک سعد شہید پولیس لائنز میں قائم سیف سٹی پراجیکٹ کے مرکزی کنٹرول روم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے منصوبے پر جاری کام کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز عباس احسن، ڈی آئی جی انفارمیشن ٹیکنالوجی و پراجیکٹ ڈائریکٹر سیف سٹی رائے اعجاز احمد، سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں محمد سعید، ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان، ایڈیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر نوید گل، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز کے پی پولیس شہزادہ کوکب فاروق، این آر ٹی سی کے ماہرین اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔
آئی جی پی کو مرکزی کنٹرول روم کے مختلف حصوں، جدید کیمرہ سسٹمز اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ٹیکنالوجی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
این آر ٹی سی کے ماہرین نے بتایا کہ منصوبے کا بڑا حصہ تکمیلی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور افتتاح کے لیے کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس نے کنٹرول روم کی عمارت اور کام کے معیار کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ماہرین کو چند تجاویز بھی دیں اور کہا کہ ہر منصوبے میں بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے، تاہم سیف سٹی پراجیکٹ کی بروقت اور معیاری تکمیل پشاور میں امن کی نئی نوید ثابت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور پولیس لائنز میں دو نئے آہنی گیٹس نصب، پیدل آنے والوں کے لیے سخت چیکنگ نافذ
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے صوبے میں امن و امان کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوام اس منصوبے کا طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے، جسے عالمی معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائی کوالٹی کیمرے، مضبوط اسٹیل اسٹرکچر اور جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس سسٹمز پر مشتمل یہ منصوبہ شہر کے باسیوں کے لیے امن کی ضمانت اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوگا۔





