نوشہرہ شیرین کوٹ سے تعلق رکھنے والی انور بیگم صوابی انٹرچینج پر ٹریفک جام کی وجہ سے ایمبولینس میں جاں بحق ہو گئیں۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ سیاسی احتجاج کے نام پر عوام کو کس حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کے لیے زیادہ لوگ نہ نکلنے پر چند افراد نے سڑکیں بند کرنے کا اقدام کیا، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیر اہتمام یہ مظاہرے اپنی ہی صوبے کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور سیاسی مقاصد کے لیے ایسے اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں، جن کا سب سے زیادہ بوجھ غریب شہری اٹھا رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے احتجاجوں سے نہ صرف ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی بھی درہم برہم ہو جاتی ہے۔ کاروبار متاثر ہوتے ہیں، دیہاڑی دار مزدور خالی ہاتھ گھر لوٹتے ہیں، مریض اسپتال پہنچنے میں دشواری کا شکار ہوتے ہیں، اور طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔
واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوامی حلقوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں جو صوبے کے عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں، وہی عوام کی زندگی کو مشکلات میں ڈال رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل انتشار اور احتجاج نہیں بلکہ سنجیدہ اور پرامن طریقہ اختیار کرنا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سیاسی ہنگامے کبھی کبھار جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں، اور عوام کی حفاظت ہر فیصلے میں اولین ترجیح ہونی چاہیے۔





