پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک لاکھ سے زائد بائیک رائیڈرز میں سے محض چند سو افراد نے اپنی موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن مکمل کی ہے، جس کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے غیر رجسٹرڈ بائیک رائیڈرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رجسٹریشن کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود ہزاروں بائیک رائیڈرز نے اپنی گاڑیاں رجسٹر نہیں کروائیں، جس کے باعث شہر کی سکیورٹی صورتحال تشویشناک حد تک متاثر ہو رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں بلکہ بعض واقعات میں چوری شدہ بائیک استعمال کر کے مسافروں کو حساس یا خطرناک مقامات تک لے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر ہر موٹر سائیکل کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ شہریوں کے تحفظ اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاہم متعدد بائیک رائیڈرز اب بھی رجسٹریشن کروانے سے گریزاں ہیں، جس سے سکیورٹی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں غیر قانونی بائیک رائیڈرز کے خلاف باقاعدہ کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : کروڑوں روپے میں فروخت شدہ نمبر پلیٹس کے مالکان کی ٹیکس تفصیلات طلب
کارروائی کے دوران غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ضبط کی جائیں گی جبکہ قانون شکنی کرنے والوں کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامیہ نے بائیک رائیڈرز سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے اور شہر میں امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔





