حساس مقامات، سرکاری عمارات اور رمضان سیکیورٹی کے لیے آئی جی پی کے سخت احکامات جاری

پشاور: انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کی زیر صدارت آج سنٹرل پولیس آفس پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے تمام ریجنل پولیس آفیسرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس میں عوامی سہولیات کی فراہمی، پولیس فورس کی فلاح و بہبود، پولیس انفراسٹرکچر اور صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز، سپیشل برانچ، ہیڈکوارٹرز، انوسٹی گیشن، سی ٹی ڈی، سی سی پی او پشاور، کمانڈنٹ ایس ایس یو، ڈی آئی جیز ویلفیئر، فنانس اور پروکیورمنٹ، ٹیلی کمیونیکیشن سمیت دیگر اہم افسران نے شرکت کی۔

آئی جی پی نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ پولیس کا اولین مقصد عوام کو بروقت، باوقار اور شفاف خدمات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی استعداد کار اور مورال کو بلند رکھنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

اجلاس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں، اشتہاری مجرمان کے خلاف کارروائیاں اور حساس مقامات کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے فلسطین کے حق میں عالمی سطح پر واضح مؤقف اختیار کر لیا

آئی جی پی نے کہا کہ پولیس فورس جدید ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے تمام اضلاع میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز، کومبنگ آپریشنز اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

آئی جی پی نے ہدایت کی کہ عوام کو بنیادی پولیس خدمات ان کے قریبی علاقوں میں فراہم کی جائیں۔ پولیس سہولت مراکز کی خدمات کو ضلع سطح سے تحصیل سطح تک بڑھانے پر غور کیا گیا تاکہ آن لائن سروسز، ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ اور شفاف سروس ڈیلیوری کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ افسران کو فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنانی ہوگی اور تھانوں کی کارکردگی مزید بہتر کی جائے تاکہ عوام کے ساتھ اعتماد اور رابطہ مضبوط ہو۔

آئی جی پی نے زیر تعمیر پولیس انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل، پرانی عمارتوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات دیے۔

یہ  بھی پڑھیں : پاکستان میں نوجوان قیادت مضبوط بنانے کے لیے نیشنل اینفلونسرز کا تاریخی اقدام

انہوں نے ہدایت کی کہ ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی جائے، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ سخت کی جائے اور رات کے اوقات میں پیٹرولنگ بڑھائی جائے۔

مزید برآں پولیس کے لیے جدید آرمڈ پرسنل کیرئیرز، جدید اسلحہ اور آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، اور تمام حساس مقامات و سرکاری عمارات کے سیکیورٹی آڈٹ کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔

آئی جی پی نے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹ سنٹرل پولیس آفس کو بھیجنے کی ہدایت کی تاکہ نگرانی اور جائزہ ممکن بنایا جا سکے۔

Scroll to Top