پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور فیملی ولاگر رجب بٹ کے خاندان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کے ردعمل کا مرکز بن گئی ہے۔
وائرل ویڈیو میں گھر کے اندر تقریباً 9 سالہ بچے کو فرش کی صفائی کرتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ مبینہ طور پر رجب بٹ کی والدہ بھی وہاں موجود ہیں۔
ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اسے چائلڈ لیبر قرار دیا اور شدید تنقید کی۔
View this post on Instagram
صارفین نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں کم عمر بچوں سے مشقت لینا قانوناً جرم ہے اور ایک معروف سوشل میڈیا شخصیت کے گھر میں ایسا واقعہ کیسے پیش آیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث میں کچھ صارفین نے اس عمل کو غیر ذمہ دارانہ اور جابرانہ قرار دیا۔ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا نوٹس لیں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کچھ صارفین نے خاندان کے رویئے پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ بچوں کی حفاظت اور حقوق کو نظر انداز کرنا تشویشناک ہے۔
تاحال رجب بٹ یا ان کے خاندان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید اور بحث مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : یونیورسٹی آف ہری پور میں بھرتیوں کا معاملہ، خیبر پختونخوا حکومت کا اہم فیصلہ
ماہرین اور بچوں کے حقوق کے کارکنان کے مطابق، کم عمر بچوں کو کام پر لگانا اور اس کی ویڈیو بنانا بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور والدین یا سرپرست کے لیے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر #ChildRights اور #RajaBut جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں اور صارفین اس معاملے پر فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔





