کاشف الدین سید
خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے شہریوں کو مفت اور معیاری علاج کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے صحت سہولت پروگرام میں مبینہ بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے۔
تقریباً 50 کروڑ سے زائد کی ہیر پھیر سامنے آئی ہے۔
سرکاری ریکارڈ اور داخلی آڈٹ رپورٹس کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے ایک بڑے تدریسی ہسپتال میں بعض ڈاکٹرز کی جانب سے نظام کا منظم انداز میں غلط استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صحت کارڈ کے حامل مریضوں کو غیر ضروری اور ضرورت سے زائد ادویات تجویز کی گئیں، جنہیں بعد ازاں نقد رقم کے عوض دیگر مریضوں کو فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
اسی طرح سینکڑوں کیسز میں مریضوں سے سرجری کے نام پر نقد رقم وصول کی گئی جبکہ انہی آپریشنز کے اخراجات صحت کارڈ کے ذریعے بھی کلیم کیے گئے جس سے مبینہ طور پر دوہری ادائیگی حاصل کی گئی۔
حکومتی پالیسی کے تحت صبح کے اوقات میں صحت کارڈ کے تحت ہونے والی سرجریز ہسپتال کے کھاتے میں جاتی ہیں اور مکمل رقم ہسپتال کو ادا کی جاتی ہے جبکہ شام کے اوقات میں ہونے والے آپریشنز انسٹی ٹیوشنل بینڈ پریکٹس ( آئی بی پی) کے تحت شمار ہوتے ہیں جس میں آمدن مقررہ فارمولے کے مطابق ڈاکٹرز اور ہسپتال کے درمیان تقسیم کی جاتی ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض ڈاکٹرز نے صبح کے اوقات میں کیے گئے آپریشنز کو ریکارڈ میں شام کے آپریشنز ظاہر کیا تا کہ وہ براہ راست آمدن میں حصہ حاصل کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق کمپیوٹرائزڈ ہسپتال سسٹم میں تکنیکی طریقوں سے ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیاتاہم یہ بے ضابطگیاں مکمل طور پر نا قابل سراغ نہیں تھیں۔





