ایل آر ایچ پشاور میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن،معاملہ محکمہ صحت تک پہنچ گیا

کاشف الدین سید

خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے طبی مرکز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے انکشاف کے بعد معاملہ باضابطہ طور پر محکمہ صحت خیبر پختونخوا تک پہنچ گیا ہے۔

اس سلسلے میں اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علاؤالدین کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو ارسال کی کئی درخواست پر محکمہ صحت نے کارروائی کے لیے خط جاری کر دیا ہے ۔

دستاویزات کے مطابق انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹر طارق برکی اور ایچ آر ڈائریکٹر یوسف جمال پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی بے ضابطگیوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریبا 55 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہسپتال میں ایئر کنڈیشنرز کی خریداری مبینہ طور پر مارکیٹ ریٹ سے تقریبا 200 فیصد زائد قیمت پر کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔

مزید کہا گیا ہے کہ انکوائری رپورٹ بورڈ آف گورنرز کو پیش کیے جانے کے باوجود تا حال ذمہ داران کے خلاف موثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقم اور مالی نقصان کی مکمل ریکوری کی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت فوری تادیبی کارروائی کی جائے۔

کرپشن کے عرصے کے دوران حاصل کی گئی تنخواہوں اور مراعات کی بھی جانچ کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اوربورڈ آف گورنرز کے کردار کا آزادانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے تا کہ ادارہ جاتی احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس حوالے سے محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے با قاعدہ خط کے ذریعے ہسپتال ڈائریکٹر، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو شکایت پر مزید ضروری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ موصولہ درخواست پر قواعد کے مطابق کارروائی کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔

Scroll to Top