عمران خان کی رہائی کیسے ممکن ہوگی؟ شفیع جان نے واضح کر دیا

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی رہائی صرف عوامی پریشر کے نتیجے میں ممکن ہوگی۔

شفیع جان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت پارٹی کے پاس بانی کی رہائی کے لیے کوئی راستہ سڑکوں کے علاوہ نہیں بچا۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کا کنٹینر تیار ہے اور اس بار وہ نتائج چاہتے ہیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ کوئی جیل نہیں توڑی جائے گی، لیکن رہائی کے لیے فورس پر کام جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی کی ہے اور جب کنٹینر پر عوام چڑھیں گے تو اس کا رخ کسی بھی جگہ کی جانب ہو سکتا ہے۔

شفیع جان کے مطابق یہ عوامی احتجاج اور دباؤ ہی ہوگا جو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا فیصلہ کرے گا، اور پارٹی اس میں تمام ممکنہ اقدامات کو بروئے کار لائے گی تاکہ مطالبات کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

پارٹی کے رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی تحریک مضبوط اور پرامن رہنی چاہیے تاکہ سیاسی دباؤ کے ذریعے بانی کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی منتقلی پر نئی پیشرفت؟ علیمہ خان کا اہم بیان

جبکہ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری سطح پر تیار کی گئی میڈیکل رپورٹ پر انہیں اور ان کی بہن کو شدید تحفظات ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے الشفاء منتقلی کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہنوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی بھابھی حال ہی میں ملاقات کرکے آئی ہیں اور انہوں نے صحت سے متعلق بعض اہم نکات سے آگاہ کیا۔

علیمہ خان کے مطابق انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے کیونکہ ان کا مکمل طبی ریکارڈ اور ڈیٹا ان کے ذاتی معالجین کے پاس موجود ہے۔

علیمہ خان نے بتایا کہ ابتدا میں ایاز صادق کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی کہ دو ڈاکٹرز کو جیل بھیج دیا جائے تاکہ وہ معائنہ کر سکیں، تاہم بعد ازاں کہا گیا کہ محسن نقوی سے کانفرنس کال کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ عمران خان کو الشفاء منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ڈاکٹر کی مرتب کردہ رپورٹ پر ان کی بہن نے اعتراض کیا اور کہا کہ رپورٹ درست نہیں۔

علیمہ خان نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کو قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے اور ان کی صحت کے حوالے سے مکمل شفافیت کیوں اختیار نہیں کی جا رہی۔

Scroll to Top