لیپ ٹاپ سکیم محض ڈیجیٹل ڈیوائسز کی تقسیم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے،امیرمقام

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہاکہ لیپ ٹاپ سکیم محض ڈیجیٹل ڈیوائسز کی تقسیم نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل میں بہترین سرمایہ کاری ہے۔

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور میں وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تقسیم کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں قومیں صرف افرادی قوت کی تعداد سے نہیں بلکہ اپنی افرادی قوت کی ذہنی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور تکنیکی مہارت کی بنیاد پر مقابلہ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ لمحہ انتہائی مسرت اور فخر کا باعث ہے کہ وہ اپنی مادر علمی جامعہ میں بطور مہمان خصوصی موجود ہیں۔ انہوں نے یاد کیا کہ اسی درسگاہ سے انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، یہیں سے ان کے خوابوں کو سمت ملی اور عملی زندگی کا آغاز ہوا۔ ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپس کی تقسیم کو انہوں نے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ انجینئرنگ کسی بھی ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ سڑکوں، ڈیموں، صنعتوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور دفاع سمیت ہر شعبے میں انجینئرز کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ مضبوط معیشت کی بنیاد جدید انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی پر ہوتی ہے اور یہ ذمہ داری انجینئرز کے کندھوں پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ بطور انجینئر وہ ہمیشہ انجینئرز کے مسائل اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں، چاہے وہ اسمبلی کا فلور ہو یا کابینہ کا اجلاس۔ انہوں نے انجینئرز کے روزگار، پیشہ ورانہ وقار اور جائز حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایک انجینئر کی محنت ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

تقریب میں 950 لیپ ٹاپس کی تقسیم کو انہوں نے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی جانب سے نوجوانوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔ اس اقدام سے طلبہ کو عالمی آن لائن کورسز، بین الاقوامی تحقیقی لائبریریوں اور جدید تکنیکی مہارتوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی، جو علم پر مبنی معیشت میں کامیابی کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی سرمائے، تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی میں بروقت سرمایہ کاری کرنے والے ممالک ہی عالمی ترقی کی قیادت کرتے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی راستے پر گامزن کرنے کے لیے دوراندیش اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں 2017 میں نیشنل سنٹر فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا قیام عمل میں لایا گیا جو آج ملک میں اے آئی تحقیق کا اہم ستون ہے۔ ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے نیشنل سنٹر فار سائبر سیکیورٹی اور جدید ڈیٹا تجزیے کے فروغ کے لیے نیشنل سنٹر فار بیگ ڈیٹا اینڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ بھی قائم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد انجینئرنگ جامعات کو قومی اختراعی نیٹ ورک سے منسلک کیا گیا تاکہ تحقیق کو صنعت سے جوڑا جا سکے۔ اسی تسلسل میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کو معاشی ترقی کے اسٹریٹجک محرک کے طور پر آگے بڑھایا گیا جس سے انفراسٹرکچر، توانائی اور صنعتی شعبوں میں نئی راہیں کھلیں۔

نوجوان انجینئرز کو عملی مواقع فراہم کرنے کے لیے پی ایس ڈی پی منصوبوں میں دس ہزار انٹرن شپس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایک سالہ انٹرن شپ کے دوران ہر انجینئر کو ماہانہ پچاس ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا، بالکل اسی طرز پر جیسے ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کے دوران معاوضہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مارچ میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت باضابطہ طور پر لانچ کیا جائے گا۔

آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو محض وعدے نہیں بلکہ عملی مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہدف یہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان صرف ملازمت کا متلاشی نہ رہے بلکہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے ذریعے معیشت کا معمار بنے، یہی وژن ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔

Scroll to Top