بزدلی کی انتہا:افغان طالبان کی جانب سے جنگ میں بچوں کا استعمال،پکڑے جانے پر رونا شروع کردیا

اسلام آباد: افغان طالبان کی جانب سے دین اور شریعت کے نام پر معصوم ذہنوں کے ساتھ کھیلنے اور بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا شرمناک انکشاف ہوا ہے۔

پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ افغان طالبان شریعت کی آڑ میں کم عمر نوجوانوں اور بچوں کو ہراول دستے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو کہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلم کھلی خلاف ورزی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحد پر کارروائی کے دوران جب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک حملہ آور نوجوان کو گرفتار کیا تو ہوش ربا حقائق سامنے آئے۔

گرفتار ہونے والا نوجوان درحقیقت ایک بچہ نکلا جسے جہاد کے نام پر برین واش کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہ نوجوان زار و قطار رونے لگا اور معافیاں مانگتے ہوئے واسطے دینے لگا۔

اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان کے پاس لڑنے کے لیے حوصلہ ختم ہو چکا ہے، اسی لیے وہ معصوم بچوں کو آگے کر کے خود پیچھے چھپ رہے ہیں۔

پاکستانی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے بچوں کو جنگی ایندھن بنانے کا فوری نوٹس لے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک فضائیہ کے حملے شروع، ننگر ہار کے اندر بڑا ایمونیشن ڈیپو تباہ

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی یہ بزدلانہ حکمتِ عملی ان کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے، کیونکہ وہ پیشہ ورانہ فوج کا سامنا کرنے کی سکت کھو چکے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم بچوں کا بطور انسانی ڈھال استعمال کرنا ایک ایسا جرم ہے جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

Scroll to Top