اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیوں میں افغان خارجی فورسز کو بھاری نقصان پہنچا۔ 58 دشمن جہنم واصل ہوئے جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس دوران 12 دشمن پوسٹیں مکمل طور پر تباہ اور 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایک بڑا ایمونیشن ڈپو، 3 افغانی بٹالین اور سیکٹر ہیڈکوارٹر بھی مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ مزید برآں، مؤثر جوابی کارروائی میں 30 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز بھی تباہ ہوئے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شدت سے مزید جوابی حملے جاری ہیں اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بزدلی کی انتہا:افغان طالبان کی جانب سے جنگ میں بچوں کا استعمال،پکڑے جانے پر رونا شروع کردیا
افغان طالبان کی جانب سے دین اور شریعت کے نام پر معصوم ذہنوں کے ساتھ کھیلنے اور بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا شرمناک انکشاف ہوا ہے۔
پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ افغان طالبان شریعت کی آڑ میں کم عمر نوجوانوں اور بچوں کو ہراول دستے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو کہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلم کھلی خلاف ورزی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سرحد پر کارروائی کے دوران جب پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک حملہ آور نوجوان کو گرفتار کیا تو ہوش ربا حقائق سامنے آئے۔
گرفتار ہونے والا نوجوان درحقیقت ایک بچہ نکلا جسے جہاد کے نام پر برین واش کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے وقت وہ نوجوان زار و قطار رونے لگا اور معافیاں مانگتے ہوئے واسطے دینے لگا۔
اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان کے پاس لڑنے کے لیے حوصلہ ختم ہو چکا ہے، اسی لیے وہ معصوم بچوں کو آگے کر کے خود پیچھے چھپ رہے ہیں۔
پاکستانی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے بچوں کو جنگی ایندھن بنانے کا فوری نوٹس لے۔





