سیکیورٹی صورتحال کے باعث اپر دیر کے 32 سکول ایک ہفتے کے لیے بند

ناصر زادہ
اپر دیر: پاک افغان سرحد پر کشیدہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ضلع اپر دیر میں 32 سرکاری تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ضلع اپر دیر کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔

جاری کردہ آفس آرڈر کے مطابق یہ اقدام سرحدی علاقوں میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور طلبہ و اساتذہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل و فی میل) اپر دیر کی سفارش پر کیا گیا، جنہوں نے سرحدی علاقوں میں درپیش سیکیورٹی خدشات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کی تجویز دی تھی۔

حکم نامے کے تحت تحصیل براول اور ضلع اپر دیر کے مختلف علاقوں میں قائم گورنمنٹ مڈل اور پرائمری اسکول فوری طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ بندش ایک ہفتے کے لیے ہوگی، تاہم حالات کا مسلسل جائزہ لیا جاتا رہے گا اور صورتحال بہتر ہونے پر تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا: بلدیاتی ہڑتال مؤخر، وزیرِاعلیٰ سُہیل آفریدی کا اہم اعلان

ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کی نقول متعلقہ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں، جن میں سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبرپختونخوا، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر دیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں، تاکہ فیصلے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آتے ہی تعلیمی سرگرمیاں بحال کر دی جائیں گی۔

Scroll to Top