ایران امریکا کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، پاکستان اور ترکیہ کا اہم کردار سامنے آگیا

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور چند دوست ممالک ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے بھی سعودی عرب اور ایران کے درمیان روابط بہتر بنانے میں کردار ادا کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خطے میں بعض قوتیں کشیدگی کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔ ان کے بقول ماضی میں اسرائیل اس حوالے سے تنہا تھا تاہم اب بھارت بھی اس طرزِ عمل میں شامل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کی خواہش ہے کہ علاقائی تناؤ برقرار رہے۔ پاکستان نے ایران کو بھی باور کرایا ہے کہ مسلمان ممالک خصوصاً سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان اور ترکیہ خطے میں ہم آہنگی کے فروغ کے لیے قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ باہمی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عالمی معیشتوں پر دباؤ بڑھے گا، اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اس کے اثرات زیادہ شدت سے محسوس کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ریاست کے عدم استحکام کے اثرات اس کے ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افواج پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں پر بڑا حملہ کر دیا, بڑی تعداد میں ڈرون اور تباہ کن راکٹس کا استعمال

وزیراعظم اور ترک صدر کے درمیان حالیہ رابطے کا ذکر کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ شب مثبت اور حوصلہ افزا گفتگو ہوئی۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہاں بھارت کی جانب سے اسلحہ پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کا ہدف دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت چاہتی تو کارروائی کا دائرہ کار کابل تک بڑھایا جا سکتا تھا، تاہم ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے اپنے اہداف کے حصول میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور تقریباً 95 فیصد مقاصد حاصل کر لیے گئے۔

Scroll to Top