نادرا کا خواتین کی رجسٹریشن کے متعلق بڑا اعلان

اسلام آباد: عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں خواتین کی خصوصی رجسٹریشن مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ مہم آج 9 سے 13 مارچ 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو قانونی شناخت حاصل ہو سکے اور وہ اپنے شہری حقوق سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

نادرا کی سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق رجسٹریشن سے محروم بچیوں اور بالغ خواتین کا تناسب بچوں اور مردوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

اس پس منظر میں نادرا نے خواتین کی رجسٹریشن کو قومی ترجیحات میں شامل کیا ہے اور متعدد عملی اقدامات کیے ہیں تاکہ اس خلا کو کم کیا جا سکے۔ ان اقدامات کا مقصد خواتین کو قانونی شناخت کے ذریعے ریاستی اور شہری حقوق کے فوائد تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

نادرا نے خواتین کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ملک بھر میں 28 ایسے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں عملہ مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ہے۔

ان مراکز میں خواتین کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے رجسٹریشن کروا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نادرا کے مجموعی عملے میں خواتین کی نمائندگی بھی بڑھائی گئی ہے اور اب نادرا کے رجسٹریشن عملے میں خواتین کا تناسب 17 فیصد سے زائد ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مردان میں ڈینگی کے خطرے سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات تیز کر دیے گئے

ان اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نادرا کے مطابق پہلی بار رجسٹریشن کرانے والی خواتین کا تناسب فروری 2025 میں 60 فیصد تھا جو فروری 2026 میں بڑھ کر 65 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

اسی طرح ب فارم کی بنیاد پر شناختی کارڈ بنوانے والوں میں خواتین کا تناسب جنوری 2026 میں 44 فیصد تھا، جو فروری میں بڑھ کر 56 فیصد تک پہنچ گیا۔

نادرا نے ایک اور اہم سہولت متعارف کرائی ہے جس کے تحت اٹھارہ سال سے زائد عمر کی ایسی خواتین جو رجسٹریشن سے محروم ہیں، اب عارضی طور پر پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی شناختی کارڈ حاصل کر سکتی ہیں۔

اس سہولت کے تحت خواتین مخصوص شرائط پوری کرنے پر شناختی کارڈ حاصل کر سکتی ہیں، جو کہ نادرا کی طرف سے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر متعارف کرائی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

مہم کے دوران نادرا نے ملک بھر کے مراکز میں 50 فیصد کاؤنٹرز خواتین کے لیے مختص کیے ہیں تاکہ ان کو رجسٹریشن کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

اس کے علاوہ کئی مراکز میں خواتین کی رہنمائی کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں، تاکہ وہ آسانی سے اپنے مسائل کا حل حاصل کر سکیں۔

نادرا نے اس مہم کے دوران تمام شہریوں خصوصاً مرد حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے گھر کی تمام خواتین کی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں : تربت، لاء کالج کے اساتذہ و طلبہ کیلئے افطار و ڈنر کا خصوصی پروگرام، وزیراعلیٰ بلوچستان بھی شامل

نادرا کا کہنا ہے کہ قانونی شناخت نہ صرف ریاستی تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے ذریعے خواتین اپنے بنیادی حقوق بھی استعمال کر سکتی ہیں۔

ان حقوق میں بینک اکاؤنٹ کھلوانا، سماجی تحفظ کی سکیموں سے فائدہ اٹھانا، حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا اور ملک کی معاشی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شامل ہے۔

نادرا نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواتین کی قانونی شناخت کے حصول کے لیے یہ مہم ایک اہم قدم ہے۔ اس مہم کے ذریعے خواتین کو نہ صرف اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں ان حقوق تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

اس مہم کا مقصد خواتین کو وہ حقوق فراہم کرنا ہے جو انہیں ان کی قانونی شناخت کے ذریعے حاصل ہوں گے، تاکہ وہ ملکی ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں اور ایک محفوظ، خودمختار اور آزاد شہری بن سکیں۔

نادرا کی جانب سے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر شروع کی گئی یہ مہم ایک اہم قدم ہے جس سے خواتین کو اپنی شناخت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

اس مہم کے ذریعے خواتین کو نہ صرف اپنی قانونی حیثیت کا علم ہو گا بلکہ انہیں اپنے حقوق کے حصول کا طریقہ بھی فراہم کیا جائے گا، جو انہیں معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی میدان میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل بنائے گا۔

Scroll to Top