نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، اس مسئلے پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینا ہوگی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہ موجود ہیں جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کی موجودگی کے باعث سرحد پار دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔
ان کے بقول یہ عناصر پاکستان کے مختلف شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور خودکش حملوں سمیت متعدد دہشتگرد کارروائیاں کر چکے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ 26 فروری کو افغان طالبان حکومت نے بلاوجہ پاکستان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں معصوم شہری متاثر ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس صورتحال کے جواب میں مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن فورسز اور دہشتگردوں کو نشانہ بنایا۔ انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے دوران غیر ملکی ساختہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : طلبہ و طالبات کے لیے بڑی خوشخبری: ایک ساتھ 11 دن کی مسلسل چھٹیاں
پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ افغانستان اس وقت دہشتگرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ تاہم پاکستان ایک محفوظ، مستحکم اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے کیونکہ یہی خطے میں امن کے قیام کا واحد مؤثر راستہ ہے۔





