اسلام آباد: پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ سروس 5 جی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں زونگ، جاز اور یوفون کو 5 جی کے لائسنس جاری کر دیے ہیں۔
لائسنس کے اجرا کے بعد تینوں کمپنیاں مرحلہ وار ملک میں 5 جی سروسز فراہم کرنا شروع کریں گی، جس سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولیات میسر ہوں گی۔
ابتدائی طور پر یہ سروسز لاہور، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کے بڑے شہروں اور اہم مقامات پر دستیاب ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں : صارفین کے لیے عید کے دنوں میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
لائسنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 5 جی سپیکٹرم کی نیلامی انتہائی شفاف انداز میں ہوئی اور درپیش قانونی چیلنجز کو کامیابی سے حل کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر آئی ٹی شعبے میں پاکستان کا نام روشن کریں گے اور پاک چین دوستی کے تعلقات بھی اس جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے مضبوط ہوں گے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار 5 جی سروس متعارف کرائی گئی ہے، اور یہ کامیابی وزیرِ اعظم کی قیادت میں مکمل ٹیم ورک کی بدولت ممکن ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے چند ماہ میں مجموعی طور پر انٹرنیٹ کا معیار بہتر ہوگا اور شہریوں کو بہتر 4 جی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔
پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی 90 کی دہائی کے اوائل سے شروع ہوئی اور 2004 سے 2025 تک چار سپیکٹرم نیلامیاں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ 480 میگا ہرٹز کی شفاف نیلامی کے بعد پاکستان خطے میں سپیکٹرم کی استعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں فائیو جی سروس کا باضابطہ آغاز
صارفین کے لیے معلومات:
پی ٹی اے کے مطابق زونگ اور جاز آج سے ہی 5 جی سروس کا آغاز کر دیں گی جبکہ یوفون چند روز بعد سروس متعارف کرائے گی۔
ٹیلی کام کمپنیاں موبائل مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ صارفین کو جلد اپنے موبائل فونز پر سافٹ ویئر اپڈیٹ کے ذریعے 5 جی کی سہولت میسر ہو سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 5 جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے ڈیجیٹل سروسز، آن لائن کاروبار اور مجموعی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا۔





