پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھنے والا بھارت منظر سے غائب، دنیا بھر میں پاکستان کے چرچے

اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی فعال اور مؤثر سفارتی حکمتِ عملی عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہی ہے، جبکہ بھارت میں اس صورتحال پر تشویش اور تنقید کا ماحول پایا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس بات پر ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے کہ جس پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی گئی، وہی اب ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کی ایک رپورٹ میں پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہا گیا ہے اور اسے بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارت کی خارجہ پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور مودی حکومت کے دعوؤں کی حقیقت سامنے لے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات کی تصدیق، 5 روز کیلئے فوجی کارروائی موخرکرنے کاا علان

رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو غیر مؤثر بنانے کو اہمیت دی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے بجائے پاکستانی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کو ترجیح دیے جانے نے بھارت کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرا ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ بھارت توانائی کے راستوں اور تجارتی معاملات پر پریشانی کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بھارت کی محدود موجودگی اور پاکستان کا پسِ پردہ سفارتی کردار مودی کے عالمی قیادت کے دعوؤں پر سوال اٹھاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اعتماد قائم کرتے ہوئے اہم پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کیا، جبکہ بھارت کی اسٹریٹجک حیثیت کمزور نظر آئی۔ یہاں تک کہ امریکا نے بھارت کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کو ترجیح دی، جو خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی “پرفیکٹ ٹیم ورک” کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، عطا تارڑ

پاکستان نے اپنے سیاسی و عسکری روابط کو استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی رسائی حاصل کی اور خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا۔ اس کے برعکس، بھارت کی چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے باوجود اس کی علاقائی اہمیت متاثر ہوتی دکھائی دی۔

رپورٹ کے مطابق ترکیہ اور مصر کے درمیان پاکستان کی بیک چینل سفارت کاری نے اسے مزید مؤثر بنا دیا، جبکہ بھارت خطے کی موجودہ صورتحال میں پیچھے رہ گیا۔ مودی حکومت کی اسرائیل کے ساتھ قربت اور پاکستان مخالف پالیسیوں نے بھی بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال مودی ڈاکٹرائن کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے، جس میں ذاتی تشہیر اور عالمی امیج کو ترجیح دی گئی، جبکہ زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو امریکا اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر منوایا، جبکہ بھارت اس عمل میں پس منظر میں چلا گیا۔

Scroll to Top