تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور پاکستان کی نیت خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مثبت ہے۔ ایران پڑوسی ممالک کی نیک نیتی کو سمجھتا ہے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے پڑوسی ممالک کے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کیں اور خطے میں کشیدگی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران نے ان ملاقاتوں میں ہر ملک کے مثبت کردار اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ مختلف ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کی، تاہم ایران نے امریکی اور اسرائیلی مذاکرات پر اعتماد نہ کرنے کا موقف برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے گزشتہ 9 ماہ میں مذاکرات کے دوران دو بار حملوں کا سامنا کیا، جس کی وجہ سے امریکا کی سفارتکاری پر اعتماد ختم ہو گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران اپنے دفاع اور علاقائی سالمیت کی حفاظت جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی کے لیے اقدامات نافذ ہیں۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرے گا، تاہم جو ممالک اس جنگ میں شامل نہیں ہیں، وہ ضروری ہم آہنگی کے بعد محفوظ گزرگاہ استعمال کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا و اسرائیل نے ایرانی عہدیداروں کو ہدفی فہرست سے عارضی طور پر نکال دیا
بقائی نے مزید کہا کہ امریکی درخواست پر ایران نے اپنے اصولوں کے مطابق مناسب جواب دیا اور اس میں یہ انتباہ بھی شامل تھا کہ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت پر فوری، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایران نے مغربی ایشیا میں امریکی مفادات اور اسرائیلی ٹھکانوں پر پہلے ہی جوابی کارروائیاں کر رکھی ہیں، اور اپنے دفاعی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ترجمان نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی اور بین الاقوامی جنگ کے ممکنہ اثرات کو کم کرنے کے لیے تمام پڑوسی اور دوست ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد اپنے دفاع اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی غیر ضروری تصادم سے بچنا ہے۔





