ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی اور قومی سطح پر واضح قومی پالیسی مرتب کرنے کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ ملک کے پاس ثالثی کے علاوہ کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ پہلے ہی پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز دے چکے ہیں تاکہ قومی سطح پر مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمن نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا مسلسل بحرانوں کا شکار ہے اور ہر طرف جنگی ماحول پایا جا رہا ہے۔
انہوں نے عراق اور لیبیا کے بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایران کے حالات بھی تشویشناک ہو چکے ہیں، اس لیے مسلم ممالک کو اسلامی بلاک کے قیام اور پیش رفت کی جانب توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ثالثی کی باتیں تو ہو رہی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس وقت ثالثی کے لیے پوزیشن میں ہے؟ ملک کے پاس ثالثی کے علاوہ کوئی واضح راستہ موجود نہیں اور نہ ہی کوئی مضبوط خارجہ پالیسی نظر آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم سے اہم وفد کی ملاقات، اندرونی کہانی سامنے آگئی
مولانا فضل الرحمن نے ملکی امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور ٹانک سمیت کئی علاقوں میں امن و امان خراب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بھی کشیدگی ہے اور ملک میں حکومتی رٹ کہیں دکھائی نہیں دے رہی، جس کے نتیجے میں مختلف علاقے بدامنی اور تشدد کا شکار ہیں۔
انہوں نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ قومی مشاورت کے ذریعے فوری طور پر لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ پاکستان خطے میں ثالثی کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے اور ملک کے اندرونی حالات مستحکم ہوں۔





