وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے این ایف سی سب گروپ اجلاس سے واک آؤٹ کے بعد قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ وسائل کی تقسیم میں آئینی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔
مزمل اسلم نےکہا کہ این ایف سی سب گروپ اجلاس 25ویں آئینی ترمیم کے تحت واجب الادا اور مؤخر شدہ مالی ایڈجسٹمنٹس پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا تاہم مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے پر خیبرپختونخوا نے واک آؤٹ کیا۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ این ایف سی کا طریقہ کار آئین پاکستان کے آرٹیکل 160 میں واضح ہے، جس کے تحت ہر پانچ سال بعد نئی معاشی صورتحال کے مطابق نیا ایوارڈ جاری کیا جانا ضروری ہوتا ہے، مگر ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2015 میں اپنی مدت مکمل ہونے کے باوجود تاحال برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2015 میں نئے ایوارڈ کے بجائے ترمیمی حکم کے ذریعے پرانے ایوارڈ کو جاری رکھا گیا، جبکہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد خیبرپختونخوا کی آبادی اور رقبے میں نمایاں تبدیلی آئی اور فاٹا کے انضمام کے باعث صوبے کے مالی تقاضے بھی بڑھ گئے۔
مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے بعد این ایف سی فارمولے میں خیبرپختونخوا کے حصے کو ازسرنو طے کیا جانا چاہیے تھا، تاہم ضروری تبدیلیاں نہ ہونے کے باعث وسائل کی تقسیم پرانے اور غیر آئینی حصص کی بنیاد پر جاری رہی۔
آئین کے آرٹیکل 160(6) کے تحت صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ نئے این ایف سی ایوارڈ سے قبل محصولات کی تقسیم میں ضروری ترامیم کی جائیں، جیسا کہ 2015 میں بلوچستان کے حصے میں تبدیلی کی گئی تھی، مگر خیبرپختونخوا کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کئی برسوں سے اس آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی آ رہی ہے، مگر این ایف سی میں مطلوبہ ترمیم مختلف وجوہات کی بنا پر مؤخر ہوتی رہی، جس کے باعث ضم اضلاع اور مغربی سرحدی علاقوں کے وسائل دیگر علاقوں کو منتقل ہوتے رہے۔
مزمل اسلم کے مطابق کئی سال تک این ایف سی کے اجلاس بھی منعقد نہیں ہوئے، جس سے اس اہم مسئلے کو اٹھانے کے لیے مؤثر فورم دستیاب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 11ویں این ایف سی کے پہلے اجلاس میں خیبرپختونخوا نے اس مسئلے کو باضابطہ طور پر اٹھایا اور ایک خصوصی گروپ بنانے پر اتفاق ہوا، تاہم پیش رفت نہ ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: مشیر خزانہ خیبرپختونخوامزمل اسلم کی پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی صورتحال پر وفاقی وزراءکی تعریف
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی یقین دہانیوں کے باوجود این ایف سی فارمولے میں ترمیم نہ ہونے پر واک آؤٹ بطور آخری راستہ اختیار کیا گیا، جبکہ آئینی طور پر یہ ترمیم تقریباً آٹھ سال قبل ہو جانی چاہیے تھی۔
وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ فاٹا انضمام کے بعد سے اب تک ضم اضلاع کا تقریباً 964 ارب روپے کا حصہ دیگر صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے، جو ایک سنگین مالی ناانصافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی کے عمل، باہمی مشاورت اور وفاقی ہم آہنگی کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وفاق اور تمام صوبوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور ایک مضبوط وفاق قائم ہو۔





