رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا حکومت میں سنگین بدعنوانیوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے بتایا کہ حکومت نے ایک گریڈ 17 کے افسر کو 40 ارب روپے کے پروجیکٹ کا انچارج مقرر کر دیا ہے، جس سے شکوک و شبہات بڑھ گئے ہیں کہ انتظامی اور مالی معاملات میں شفافیت کا فقدان ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ صوبائی حکومت کے موجودہ حالات ایسے ہیں کہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، لیکن بدعنوانیوں کے الزامات نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے بین الاقوامی معاملات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کی پالیسی قابل ستائش رہی ہے، جس سے ملک کی خارجہ پالیسی مضبوط اور متوازن نظر آئی۔
شیر افضل مروت کے ان الزامات کے بعد صوبائی حکومت سے موقف طلب کیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں بھی ان خبروں پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔





