خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کی ہدایات کے مطابق صوبے میں سرکاری وسائل کی کفایت شعاری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 60 فیصد سرکاری گاڑیاں فوری طور پر بند کی جائیں، تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی بچت ممکن ہو اور سرکاری محکموں میں موٹر وسائل کا مناسب استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے تحت افسران نے اضافی گاڑیاں واپس لی ہیں اور سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی سرکاری دفاتر میں اے سی چلانے کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے تمام متعلقہ ڈیپارٹمنٹس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے ہفتے میں تین دن کی چھٹیوں کی وجہ سے سرکاری کام پہلے ہی شدید متاثر ہو چکے ہیں، اور مزید پابندیاں سرکاری کام کی رفتار پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی پٹرولیم مصنوعات پر موجودہ پابندیوں کے باوجود سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال کی نشاندہی کی، جس کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔
اس اقدام سے صوبائی حکومت کی نیت واضح ہے کہ وہ وسائل کے مؤثر استعمال کے ساتھ سرکاری محکموں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنائے، جبکہ عوامی شکایات پر فوری توجہ دے کر انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔





