بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز: ایران کا اسرائیل اور امریکی اہداف پر حملہ

ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکی اہداف پر حالیہ حملوں اور اہم کمانڈرز کے ٹھکانے تباہ کرنے کے دعووں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کے انٹیلی جنس مراکز اور ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں اہم عسکری کمانڈرز موجود تھے۔

تہران کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ان کے دفاعی مفادات کے تحفظ اور خطے میں حالیہ بیرونی مداخلت کا منہ توڑ جواب ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کے کئی آپریشنل مراکز اور انفرادی ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جس سے دشمن کے دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل نے ان حملوں کے نقصانات کی تفصیلات تاحال پوشیدہ رکھی ہیں، تاہم خطے میں جود تمام امریکی اڈوں اور اسرائیلی دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کارروائی ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں ایران کی جانب سے اپنی عسکری طاقت کا ایک بڑا مظاہرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سینیٹ انتخابات کے متعلق پی ٹی آئی کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا

اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے اور کسی بھی بڑی جوابی کارروائی کی صورت میں یہ تنازع ایک باقاعدہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

روس اور چین نے فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے، لیکن تہران کے جارحانہ عزائم اور اسرائیل کی ممکنہ جوابی حکمت عملی نے عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ان حملوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق ہوتی ہے، تو آنے والے چند گھنٹے عالمی امن کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

Scroll to Top