اعلیٰ سطحی اجلاس !ڈاکٹر ز کا ملازمت پر آنے سے انکار ،خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کا بھانڈا پھوڑا گیا

اعلیٰ سطحی اجلاس !ڈاکٹر ز کا ملازمت پر آنے سے انکار ،خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کا بھانڈا پھوڑا گیا

خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کی کارکردگی پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تشویشناک انکشافات سامنے آئے، جہاں کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز اور ماہرین نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے انکار کر دیا۔

اجلاس میں صوبے کے وزیر صحت خلیق الرحمن، سیکرٹری صحت شاہد اللہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ڈاکٹر نوشیروان برکی نے محکمہ صحت کی جانب سے پیش کی گئی بریفنگ کو حقیقت کے منافی قرار دیا اور سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فراہم کردہ ڈیٹا زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتا اور اصل صورتحال بہت مختلف ہے۔

ڈاکٹر برکی نے سوال اٹھایا کہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز نے ڈیوٹیاں کیوں نہیں سنبھالیں، بیوروکریٹک رکاوٹیں کیوں پیدا کی جا رہی ہیں اور صحت کے نظام کو بہتری کے بجائے زوال کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ براہِ راست عوام کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے، لہٰذا شہریوں کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ذرائع کے مطابق انصاف ڈاکٹرز فورم نے خالی آسامیوں کی نشاندہی اور ڈیٹا تجزیہ کے لیے تین مراحل میں کام کیا۔ انکشاف ہوا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال پاراچنار میں 23 اسپیشلسٹ آسامیوں میں سے ایک بھی ڈاکٹر نے رپورٹ نہیں کیا، جبکہ چترال لوئر میں صرف 4 اسپیشلسٹس رپورٹ ہوئے۔ جنوبی وزیرستان لوئر میں 20 کنسلٹنٹس اور دیگر آفیسرز میں سے ایک بھی حاضر نہیں ہوا۔ مردان کی صورتحال نسبتاً بہتر رہی، لیکن بیشتر ہسپتالوں میں بنیادی صحت خدمات متاثر ہوئی ہیں۔

اجلاس میں اس صورتحال کو صحت کے نظام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا اور فوری طور پر اصل حقائق سامنے لانے، غیر حاضری کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ عوام کو بنیادی صحت سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

Scroll to Top