پشاور: پشاور میں آفتاب عالم نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بل 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کو ختم کرنا اور کسی بھی تنازعے کے فوری حل کو یقینی بنانا ہے۔
صوبائی وزیر قانون کے مطابق، مجوزہ بل کے تحت پورے صوبے میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد کے مسائل کا ازالہ کریں گی۔
ان عدالتوں کے جج پشاور ہائی کورٹ کی مشاورت سے مقرر کیے جائیں گے تاکہ عدالتی عمل میں شفافیت اور تجربے کو یقینی بنایا جا سکے۔
بل میں اہم نکات:
اوورسیز پاکستانی آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے اور ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے بیانات اور گواہی فراہم کر سکیں گے۔
عدالتیں ہر کیس کا فیصلہ 120 دن کے اندر کرنے کی پابند ہوں گی، جبکہ اپیل کے لیے 15 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
جائیداد کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے اقدامات بل میں شامل ہیں، اور کرایہ جات کی وصولی میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔
عدالتی نوٹسز موبائل، ای میل اور مساجد کے ذریعے بھیجے جا سکیں گے تاکہ تمام شہری آسانی سے آگاہ رہیں۔
تمام زیر التواء کیسز نئی عدالتوں کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ پراپرٹی کے تنازعات جلد حل ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : اب فیصلہ سڑکوں پر ہوگا، مولانا فضل الرحمان کا حکومت کے خلاف بڑا اعلان
صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ یہ بل اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کو بحال کرے گا اور ان کے اثاثوں کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور فوری فیصلوں کی وجہ سے یہ اقدام ملک میں سرمایہ کاری اور جائیداد کی حفاظت کے لیے اہم قدم ثابت ہوگا۔
یہ بل خیبر پختونخوا میں اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونی اور سماجی اقدام تصور کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف قانونی شفافیت بڑھے گی بلکہ سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کا فوری اور مؤثر حل بھی ممکن ہو سکے گا۔





