اسلام آباد: وفاقی ادارہ برائے پارلیمانی امور (فافین) نے قومی اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں اسمبلی کی مختلف سرگرمیوں اور قانون سازی کے عمل کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسمبلی نے دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 87 فیصد ایجنڈا مکمل کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں اجلاسوں کی تاخیر میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
پارلیمانی سال کے دوران اسمبلی نے مجموعی طور پر 67 بل منظور کیے۔ ان میں سے 58 فیصد بل حکومت کے انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق تھے، جبکہ 42 فیصد بل عوامی اہمیت کے حامل تھے، جو براہ راست شہری زندگی اور معاشرتی امور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
خواتین اراکین کی حاضری اور اسمبلی میں شرکت مرد اراکین کے مقابلے میں بہتر رہی۔ رپورٹ کے مطابق اوسط حاضری فی نشست 200 اراکین یعنی تقریباً 60 فیصد رہی۔
وزیراعظم کی حاضری: صرف 7 فیصد
قائد حزب اختلاف کی حاضری:100 فیصد
یہ بھی پڑھیں : آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز کے لیے بڑی خوشخبری: اسٹیٹ بینک کی نئی اصلاحات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پارلیمانی وقت کا 17 فیصد حصہ پوائنٹس آف آرڈر کی نذر ہوا۔ مزید برآں 12 فیصد اراکین اسمبلی پورے سال پارلیمانی کارروائی میں مکمل طور پر خاموش رہے۔
وقفہ سوالات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اراکین نے عوامی مسائل پر بات کرنے کی کوشش کی۔





