پاکستان کی پرامن ثالثی کی کوششیں جاری،اسحاق ڈار نے مراکش وزیر خارجہ کو پاکستان کی امن کوششوں سے آگاہ کیا

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 8 اپریل 2026 کو مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریٹا اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر اہم گفتگو کی۔

مراکش کے وزیر خارجہ سے گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ اور وسیع خطے میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی صورتحال پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور سفارتی تعلقات کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی حالیہ کوششوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں عالمی امن کے لیے ایک مثبت کردار ادا کر رہی ہیں۔

مراکش وزیر خارجہ ناصر بوریٹا نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اسی روز نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر اہم گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کی حالیہ کوششوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔

یہ گفتگو پاکستان کی علاقائی سفارتکاری اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں کی عکاس ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے پرامن کردار کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کی حکمت عملی، اسحاق ڈار کی سعودی وزیر خارجہ سے اہم بات چیت

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے بڑھانے پر زور دیا۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر سے اپیل کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے پرامن حل کے لیے موجودہ ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع دی جائے تاکہ سفارتی کوششیں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔

وزیر اعظم نے اپنی اپیل کے ساتھ ٹوئٹ میں بھی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے عالمی برادری اور تمام فریقین سے گزارش کی کہ دو ہفتوں کے لیے ہر جگہ جنگ بندی اختیار کی جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کے حتمی اور پائیدار حل کی راہ ہموار ہو سکے۔

Scroll to Top