اسلام آباد: پاکستان کے مجموعی قرضوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور ملک کا قرضہ تاریخ میں پہلی بار 80 ہزار ارب روپے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے بعد ہر شہری پر اوسطاً لاکھوں روپے کا بوجھ بڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کے مجموعی مقامی و بیرونی قرضے ایک سال میں 73 ہزار 36 ارب روپے سے بڑھ کر 79 ہزار 882 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جو 9.4 فیصد سالانہ اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک ماہ کے دوران بھی قرضوں میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال فروری میں مجموعی قرضوں کا حجم 73 ہزار 36 ارب روپے تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 51 ہزار 22 ارب روپے سے بڑھ کر 56 ہزار 679 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ جنوری 2026 میں یہ حجم 55 ہزار 983 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : حکومت کی سفارتی کوششیں: کتنے فیصد عوام حامی ہیں؟ سروے رپورٹ جاری
دوسری جانب بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 22 ہزار 14 ارب روپے سے بڑھ کر 23 ہزار 203 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ تاہم جنوری 2026 کے مقابلے میں بیرونی قرضوں میں معمولی کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا مجموعی حجم 4 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ سرکاری ضمانتوں سمیت دیگر مالی ذمہ داریوں کا حجم 5 ہزار ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق قرضوں میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات عام شہری کی زندگی پر بھی براہِ راست پڑ رہے ہیں۔





