150 ارب کا دباؤ!کیا خیبرپختونخوا مالی بحران کے دہانے پر پہنچ گیا؟ مزمل اسلم کا بڑا انکشاف

150 ارب کا دباؤ!کیا خیبرپختونخوا مالی بحران کے دہانے پر پہنچ گیا؟ مزمل اسلم کا بڑا انکشاف

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبے کو اس وقت 150 ارب روپے کے بھاری مالی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث مالی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اپنے بیان میں مشیر خزانہ نے وفاقی محصولات اور صوبائی اخراجات کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال وفاقی ٹیکس محصولات میں 800 سے 1000 ارب روپے تک کمی کا امکان ہے، جس کا براہ راست اثر صوبوں کی مالی گنجائش پر پڑے گا۔

مزمل اسلم کے مطابق پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) میں 180 ارب روپے کی کٹوتی اور ٹیکس ریونیو میں کمی کے باعث خیبرپختونخوا کو مجموعی طور پر 120 ارب روپے کم ملنے کا امکان ہے، جس سے صوبے کی مالی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے نے مختلف ہنگامی اور فلاحی اخراجات بھی برداشت کیے ہیں، جن میں سیلابی امداد پر 10 ارب روپے، آئی ڈی پیز کی بحالی پر 15 ارب روپے اور کسانوں، موٹر سائیکلوں اور بسوں کے فیول معاوضے کی مد میں 10 ارب روپے کے اخراجات شامل ہیں

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان تمام عوامل کے نتیجے میں خیبرپختونخوا پر مجموعی مالی دباؤ 150 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، جس کے باعث آئندہ مالی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ مالی رجحانات برقرار رہے تو صوبے کو ترقیاتی اور جاری اخراجات میں مزید سخت فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Scroll to Top