ایران نے پاکستان کی ثالثی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم تاحال ان پر کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے ذریعے نئی امریکی تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر غور جاری ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایران نے سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں انکشاف کیا گیا کہ جاری کشیدگی کے دوران امریکا نے دسویں روز ہی جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواست دینا شروع کر دی تھی، جبکہ چالیسویں روز ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو بنیاد بنا کر اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
اس عمل میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تاہم امریکی اضافی مطالبات کے باعث بات چیت کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں بھی پاکستانی عسکری قیادت کی موجودگی میں نئی امریکی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن پر ایران غور کر رہا ہے، ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر کو روکنے پر مودی سرکار آگ بگولہ
ایران نے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط بھی بیان کیں، جن میں تمام محاذوں، خصوصاً لبنان میں مکمل جنگ بندی شامل ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو محدود اور مشروط طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت ایران کی نگرانی اور اجازت سے مخصوص راستوں کے تحت ہوگی، جبکہ سکیورٹی اور ماحولیاتی خدمات کے لیے فیس بھی عائد کی جائے گی۔
ایران نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی یا رکاوٹ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔





