امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹا۔
مشی گن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ یہ جنگ وہ ہے جو امریکی عوام نہیں چاہتے۔
کملا ہیرس نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے آپریشن ایپک فیوری کو ایپسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کی ایک کمزور کوشش کے طور پر استعمال کیا۔
کملا ہیرس نے ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ بدعنوان، بے رحم اور نااہل حکومت قرار دیا۔
کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ خود کو طاقتور ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور امریکی فوجی طاقت کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی امریکی صدر نے ملک کے اتحادوں اور دوستیوں کو مضبوط کرنے کی ذمہ داری کو نظر انداز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمزمیں بھارتی جہاز کے عملے کی ایران کےپاسداران انقلاب کے سامنے منت سماجت، آڈیو میسج وائرل
کملا ہیرس کے مطابق ٹرمپ نے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں، خصوصاً خودمختاری اور علاقائی سالمیت، کو اہمیت نہیں دی، جس کے باعث امریکہ اپنے اتحادیوں کے لیے “ناقابلِ اعتماد” بن گیا ہے۔
کملا ہیرس نے دیگر امور جیسے صحت، تولیدی حقوق اور معیشت پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی آئندہ وسط مدتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔





