پشاور: پشاور کے علاقے تہکال پلوسئی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں پانچویں جماعت کا طالب علم مبینہ طور پر گھر میں ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہار گیا۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب کم عمر طالب علم اویس گھر میں ویڈیو بنانے میں مصروف تھا اور اس دوران اس نے ایک پستول شیشے کے سامنے رکھا ہوا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ بچے کو اسلحہ استعمال کرنے کا تجربہ نہیں تھا اور اسی دوران مبینہ طور پر پستول اچانک چل گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا اور بعد ازاں دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا جبکہ اہلِ خانہ شدید صدمے میں مبتلا ہیں۔ بچے کے والد سیف الرحمان نے بتایا کہ واقعے کے وقت گھر کے دیگر بچے اسکول گئے ہوئے تھے اور ایک معمولی سی غلطی نے پورے خاندان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق مقتول بچہ اسکول کے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے مختلف سرگرمیوں میں شریک رہتا تھا اور اسی وجہ سے اس کے پاس موبائل فون موجود تھا، جسے وہ سوشل میڈیا سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا تھا۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسلحہ کی موجودگی اور اس کے ماخذ کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : دولہے کو شادی کی خوشی مہنگی پڑ گئی، پولیس نے حوالات منتقل کر دیا
دوسری جانب یہ افسوسناک واقعہ ایک بار پھر سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور کم عمر بچوں میں بڑھتے ہوئے خطرناک رجحانات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کی خواہش بعض اوقات جان لیوا حادثات کا سبب بن رہی ہے، خاص طور پر جب بچے خطرناک اشیاء اور اسلحے کے ساتھ ویڈیوز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پولیس نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل استعمال کی تربیت دیں۔
ساتھ ہی حکام سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسلحے کی غیر قانونی موجودگی اور سوشل میڈیا پر خطرناک مواد کے پھیلاؤ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔





