کھانے میں زیادہ نمک کے استعمال کا ایک اور سنگین نقصان دریافت

زیادہ نمک کا استعمال نہ صرف ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتا ہے بلکہ یہ خون کی شریانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کرنے اور یادداشت کی کمزوری کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نمک کی زیادہ مقدار جسمانی مدافعتی نظام کو اس طرح متحرک کرتی ہے کہ خون کی شریانوں کی عمر تیزی سے بڑھنے لگتی ہے اور ان کی لچک ختم ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اضافی نمک کے استعمال سے مدافعتی نظام ایک مخصوص مرکب “آئی ایل 16” خارج کرتا ہے جو شریانوں کے خلیات کو قبل از وقت بوڑھا کر دیتا ہے۔ جب یہ خلیات بوڑھے ہو جاتے ہیں تو وہ نائٹرک آکسائیڈ گیس پیدا کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جو شریانوں کو کشادہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

چوہوں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا کہ محض چار ہفتوں تک زیادہ نمک والی غذا کے استعمال سے ان کی چھوٹی شریانوں کے افعال میں نمایاں تنزلی آئی اور ورم بڑھنے سے ٹشوز کو نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایڈتھ کوون یونیورسٹی آسٹریلیا کی ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال انسانی یادداشت خصوصاً ذاتی تجربات اور ماضی کے واقعات سے جڑی یادوں کو متاثر کرتا ہے۔

1208 افراد پر کی گئی اس تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف بھی ہوا کہ نمک کے استعمال سے یادداشت کی تنزلی کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک براہِ راست نقصان پہنچانے کے بجائے جسم کے اپنے دفاعی نظام کو غلط رخ پر موڑ دیتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

Scroll to Top