سائپرس میں پاکستانیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی، سخت وارننگ جاری

اسلام آباد: بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سائپرس میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے یا وہاں قیام کرنے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ادارے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی کارڈ میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صرف قانونی راستے اختیار کریں اور اپنی و اپنے اہلِ خانہ کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ اعلامیے کے مطابق جعلی یا غیر مستند دستاویزات کے ذریعے سفر سے گریز کیا جائے اور بیرونِ ملک جانے کے لیے صرف درست ویزا کا استعمال کیا جائے۔

بیورو نے سائپرس میں مقیم پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی قوانین کی مکمل پاسداری کریں، کیونکہ وہاں امیگریشن قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پناہ کی درخواستوں میں سے 93 فیصد سے زائد مسترد کی جا رہی ہیں، جو یورپ میں بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ پناہ گزینوں کو اسٹیٹس دینے کی شرح بھی انتہائی کم ہے جبکہ سرحدی نگرانی اور کنٹرول کو مزید سخت بنا دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران غیر ملکیوں کی ریکارڈ تعداد کو ملک بدر کیا گیا، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی نیوی کے سیکرٹری جان سی فیلن مستعفی، پینٹاگون نے تصدیق کر دی

حکام کا کہنا ہے کہ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر قیام کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، اور ایسے افراد کو قانونی کارروائی اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سفری اور قانونی دستاویزات مکمل اور درست رکھیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے دور رہیں۔

ادارے نے مزید رہنمائی کے لیے اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے تاکہ شہری بروقت اور درست معلومات حاصل کر سکیں۔

Scroll to Top