گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مسائل کو پسِ پشت ڈال کر صرف سیاسی نمائشی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے،لگتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس اب کسی مویشی منڈی میں سجایا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو میں گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک طرح کا سیاسی سرکس لگا ہوا ہے۔ اسٹیڈیم میں ہونے والے اسمبلی اجلاس پر اٹھنے والے بھاری اخراجات اگر یونیورسٹی ملازمین کی بقایا تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتے تو یہ عوام کے لیے زیادہ سودمند ہوتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کھیل کے میدان نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے لیے ہوتے ہیں مگر افسوس کہ انہیں سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کے اندرونی اختلافات اب چھپائے نہیں چھپ رہے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے میں کرپشن عام ہے اور حکمران طبقہ عوامی خدمت کے بجائے تاحیات مراعات حاصل کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ حکومت کو عوامی فلاح کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
دوسری جانب پشاور میں بارہویں پاکستان انٹرنیشنل پراپرٹی ایکسپو دو ہزار چھبیس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سرمایہ کاری، رئیل اسٹیٹ اور سیاحت کے لیے ایک بہترین خطہ ہے۔
انہوں نے ایکسپو میں مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سرحد چیمبر آف کامرس کی کوششوں کو بھی سراہا۔
گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کی عالمی نمائشیں پاکستان کا ایک متحرک اور مثبت چہرہ دنیا کو دکھاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور بہتر ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے خیبرپختونخوا کو خطے کی معیشت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے شفافیت اور درست منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے





