وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے ہندوتوا نظریات اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے بھارت کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔
سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوین کی ایک ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے لکھا کہ مودی سفارتی محاذ پر ایک غیر اہم شخصیت بن چکے ہیں ۔
پروفیسر اشوک سوین نےاپنی ٹویٹ میں نریندر مودی کی دریائے ہوگلی میں کشتی رانی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک طرف آبنائے ہرمز میں بھارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسری جانب منی پور جل رہا ہے مگر مودی ان تمام سنگین مسائل سے بے نیاز ہو کر دریا کی سیر کا لطف اٹھا رہے ہیں۔
پروفیسر نے مزید کہا کہ یہ پانی گنگا سے آتا ہے جسے بھارت نے فرکا بیراج کے مقام پر بنگلہ دیش کا راستہ روک کر موڑا ہے۔
پروفیسر اشوک سوین کی اس ٹویٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے خواجہ آصف نے لکھا کہ مودی کے پاس اب اس کے علاوہ بچا ہی کیا ہے۔
انہوں نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل آپ کو جنگ میں شکست ہوئی اور ایسی مار پڑی جس کے زخم الحمدللہ ہمیشہ باقی رہیں گے۔
وزیر دفاع نے مودی کو سفارتی محاذ پر ایک غیر اہم شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ مودی کے دورِ اقتدار میں “شائننگ انڈیا” اپنی رہی سہی چمک بھی کھو چکا ہے۔
انہوں نے لکھاکہ مودی نے اپنے ہندوتوا نظریات اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے بھارت کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔





