کیا آپ بھی دوپہر کو سوتے ہیں؟ نئی طبی تحقیق نے سب کو حیران کر دیا

برسوں سے دوپہر کے قیلولے کو انسانی صحت اور اعصابی سکون کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا رہا ہے تاہم جدید طبی سائنس نے اب اس حوالے سے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔

امریکہ کے دو معتبر اداروں، بریگھم ماس جنرل ہاسپٹل اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک حالیہ مشترکہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ 20 منٹ سے زیادہ دیر تک دوپہر کو سوتا ہے تو یہ درحقیقت اس کی گرتی ہوئی صحت کی خفیہ علامت ہو سکتی ہے۔

تحقیق کاروں نے تقریباً دو دہائیوں (19 سال) تک 1338 معمر افراد کی زندگیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ دن کے وقت کی غنودگی اور اموات کی شرح میں کیا تعلق ہے۔

نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ درمیانی عمر یا بڑھاپے میں دوپہر کو سونے کی غیر معمولی عادت محض نیند کی کمی کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ جسم کے اندر پلنے والے سنگین امراض، جیسے دماغی تنزلی اور دل کی بیماریوں کا خاموش اشارہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر نیند کے ہر اضافی گھنٹے سے موت کے خطرے میں 13 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ناشتے کے فوراً بعد سونا دوپہر کے قیلولے سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔

اسی تناظر میں سپین کے جان ریمون جیمنیز یونیورسٹی ہاسپٹل کی ایک اور تحقیق نے اس خطرے کو مزید واضح کر دیا ہے۔ 20 ہزار سے زائد صحت مند افراد پر کیے گئے مطالعے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کو 30 منٹ یا اس سے زیادہ سوتے ہیں، ان میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی (Arrhythmia) کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ دل کی یہ کیفیت فالج کا خطرہ 5 گنا تک بڑھا دیتی ہے۔ ماہرینِ صحت نے اس تمام صورتحال کا حل بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قیلولے سے فائدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کا دورانیہ 15 سے 30 منٹ کے درمیان رکھا جائے، اس سے تجاوز کرنا صحت کے لیے ریڈ سگنل ثابت ہو سکتا ہے۔

Scroll to Top