ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور عوام کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب کو مزید آسان بنانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کے لیے لائسنس فیس ختم کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
اس حوالے سے پاور ڈویژن نے باضابطہ طور پر (نیپرا) کو درخواست ارسال کر دی ہے، جس میں لائسنس فیس کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق حکومت بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے اور سولر انرجی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اس سے قبل بھی نئے ریگولیشنز کے ممکنہ منفی اثرات سے متعلق نیپرا کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کی منظوری صارفین کے لیے ایک مثبت مالی ترغیب تھی، تاہم حالیہ ریگولیٹری تبدیلیوں پر سولر انڈسٹری اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیر توانائی کے مطابق لائسنس فیس جیسے اقدامات قابلِ تجدید توانائی کی پالیسی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ سولر سسٹم کی تنصیب کو آسان اور سستا بنایا جائے تاکہ ملک توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف بڑھ سکے۔
پاور ڈویژن نے 2015 کے پرانے سولر قواعد کو بحال کرنے کی بھی تجویز دی ہے جبکہ چھوٹے صارفین پر عائد فیسوں پر نظرثانی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ اقدامات منظور ہو جاتے ہیں تو ملک میں سولر انرجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جو توانائی بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔





