گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ افغان باشندوں کی باعزت واپسی کے لیے تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ افغان باشندوں کی باعزت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی پالیسی کی روشنی میں تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر رہے ہیں، جبکہ اس حوالے سے انسانی بنیادوں پر ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار افغان ٹرانزٹ حمزہ بابا کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کارگو ٹریفک میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمینل پر روزانہ تقریباً دو سو گاڑیوں کی گنجائش ہے، تاہم رش کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے کارگو کے لیے ڈبل اسکینرز نصب کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کلیئرنس کے مسائل بھی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اس سلسلے میں افغان کمشنریٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ، ڈسپنسری، ہائی جین کٹس اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوہاٹ میں نادرا کے مزید چھ کاؤنٹرز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ رش میں اضافے سے مسائل بڑھتے ہیں، اس لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر اضلاع میں بھی افغانستان واپس جانے والوں کے لیے کیمپ قائم ہیں جہاں سے تمام ضروری کارروائیوں کے بعد انہیں پولیس کی نگرانی میں طورخم بارڈر تک پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مقامی آبادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے افغانستان واپس جانے والوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر بارڈرز بند ہونے کی وجہ سے طورخم پر دباؤ زیادہ ہے، تاہم این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے درمیان مکمل رابطہ موجود ہے، اور ضرورت پڑنے پر وفاقی سطح پر مزید وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔





