خیبرپختونخوا زکوٰۃ فنڈ میں مستحقین نظر انداز، سرکاری ملازمین فائدہ اٹھاتے رہے، زکوٰۃ فنڈ میں بڑا انکشاف

پشاور: خیبرپختونخوا میں زکوٰۃ فنڈز کے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر غلط استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کو غیر قانونی طور پر ادائیگیوں اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ 2024-25 کے مطابق زکوٰۃ فنڈز مستحق افراد کے بجائے مختلف سرکاری ملازمین میں تقسیم کیے گئے، جن میں گریڈ 17 کے افسران بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گریڈ 1 سے 17 تک کے ملازمین میں مجموعی طور پر 53 لاکھ روپے سے زائد رقم تقسیم کی گئی۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ فنڈز سے استفادہ کرنے والوں میں وفاق، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مجموعی طور پر 419 سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ ان میں بعض ملازمین نے 30، 30 ہزار جبکہ بڑی تعداد نے 12، 12 ہزار روپے وصول کیے۔

رپورٹ کے مطابق حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین زکوٰۃ یا گزارہ الاؤنس کے اہل نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں ادائیگیاں کی گئیں۔ آڈٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مجموعی طور پر 8 کروڑ روپے سے زائد رقم کے استعمال میں بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے بھارت کو تاریخ ساز شکست دے دی، گرپتونت سنگھ پنوں

آڈیٹر جنرل نے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی تمام رقوم سرکاری ملازمین سے واپس ریکور کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے متعلقہ زکوٰۃ کمیٹی ممبران کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ اور لوکل زکوٰۃ کمیٹیوں میں غیر قانونی طور پر سرکاری ملازمین کی شمولیت پائی گئی جو کہ زکوٰۃ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

مزید انکشافات کے مطابق گزارہ الاؤنس کی مد میں غیر مستحق افراد کو 1 کروڑ 97 لاکھ روپے جبکہ شادی گرانٹ فنڈ میں 4 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

اسی طرح 111 سرکاری ملازمین کو مختلف الاؤنسز کی مد میں 1 کروڑ 95 لاکھ روپے کی ادائیگیوں پر بھی اعتراضات عائد کیے گئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے بعد معاملے کی مزید تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کی سفارش کی گئی ہے۔

Scroll to Top