خیبر پختونخوا میں شدید انتظامی و سیکیورٹی بحران اور دہشت گردی کی لہر کے باوجود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے کروڑوں روپے سوشل میڈیا پروپیگنڈے پر لٹانا شروع کر دیے ہیں۔
ایک طرف دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے عوام میں عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے، تو دوسری طرف کرپشن، لاقانونیت، اور وسائل کی قلت جیسے مسائل نے حکومتی ترجیحات اور گورننس کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تمام تر سنگین سکیورٹی و انتظامی صورتحال اور دہشت گردی جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ لاء اینڈ آرڈر اور پولیس کی عملی اور آپریشنل صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے بجائے زیادہ تر سوشل میڈیاپروپیگنڈا اور بیانیے بنانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی پر توجہ دینے کے بجائے ڈیجیٹل میڈیا ٹیموں کی بھرتی اور انہیں متحرک رکھنے جیسے اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
2019 میں بھی اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈاپھیلانے کے لیے تقریباً 1200 سوشل میڈیا انفلوئنسرز/ٹرولرز بھرتی کیے۔اس منصوبے کے تحت نوجوانوں کو ماہانہ تقریباً 25 ہزار روپے ادا کیے جاتے رہے۔ اس ادائیگی کے باعث مجموعی طور پر ماہانہ تقریباً 3 کروڑ روپے اور سالانہ تقریباً 36 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ سامنے آیا۔ اس پورے منصوبے پر مجموعی طور پر تقریباً 87 کروڑ روپے کے اخراجات بتائے جاتے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات کے مطابق خیبر پختون خوا پولیس میں کانسٹیبل سے انسپکٹر تک مجموعی طور پر 15 ہزار 306 اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے ۔پولیس ریکارڈ کے مطابق مختلف کیڈرز میں نمایاں خلا موجود ہے، جن میں 130 انسپکٹرز، 1,175 سب انسپکٹرز، 2,139 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (ASIs)، 2,181 ہیڈ کانسٹیبلز اور 9,672 کانسٹیبلز کی کمی شامل ہے۔
مزید برآں، پولیس فورس میں خواتین کی نمائندگی بھی انتہائی محدود ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق صوبے میں صرف ایک خاتون انسپکٹر تعینات ہے، جبکہ 7 خواتین سب انسپکٹرز اور 21 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پورے پاکستان میں خیبرپختونخوا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہے۔ آئی جی کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر کے دہشت گردی کے واقعات میں سے 50 فیصد سے زائد واقعات صرف خیبرپختونخوا میں پیش آئے، جو صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔





