خیبر پختونخوا میں بربریت، نہتے شہری محفوظ نہ رہے، عطا تارڑ کا سخت ردعمل

اسلام آباد: خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں افغان طالبان کی جانب سے نہتے شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کا حالیہ سلسلہ انتہائی قابل مذمت، گھناؤنا اور انسانی جانوں کے بارے میں ان کے غیر انسانی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں میدان میں واضح شکست کے بعد شہری آبادی کو نشانہ بنانا نہ صرف بزدلانہ عمل ہے بلکہ اس سے ان کے رہنماؤں کے اخلاقی معیار کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔

وفاقی وزیر عطا تارڑ نے اپنی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا دشمن کی کھلی بزدلی اور شکست کا ثبوت ہے۔

ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ضلع باجوڑ میں افغان طالبان اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ سہولت کار گروہ فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال کارروائیوں کے نتیجے میں نو شہری شہید ہو گئے جن میں چھ معصوم بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ بارہ افراد زخمی ہوئے جن میں سات خواتین اور ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے۔

آج ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں فتنہ الخوارج کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے کیے گئے حملے میں کرکٹ کھیلنے والے تین شہری زخمی ہو گئے، جسے کھلی جارحیت اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان کے نام نہاد نمائندے مسلسل پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ واضح شواہد کے ساتھ یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاری کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : باجوڑ : ماموند میں خوارج کی جانب سے کرکٹ گراؤنڈ پر ڈرون حملہ، تین نوجوان زخمی

ایسی ہر کارروائی کے بعد عوام کو بروقت اور شفاف انداز میں آگاہ بھی کیا جاتا ہے، اور اس دوران شہریوں کے نقصان سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط برتی جاتی ہے۔

پاکستان کی خوارجی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جدوجہد سچائی، اصولوں، غیرت، عزم اور ایمان پر مبنی ہے، جبکہ ان عناصر اور ان کے بھارتی حمایت یافتہ ساتھیوں کی کارروائیاں اور انجام شرم، فریب، لالچ اور برائی کی عکاسی کرتے ہیں۔

Scroll to Top