ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھیجی گئی تجاویز پر اپنا باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ حتمی پیش رفت کو امریکا کے جواب سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کو ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا مستقل خاتمہ ہے، اس منصوبے میں مرحلہ وار جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حل اور کشیدگی میں کمی کے عملی اقدامات شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا کشیدگی کو مزید بڑھاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اپنا دھمکی آمیز لہجہ اور توسیع پسندانہ رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ مجوزہ مذاکرات میں پاکستان باضابطہ ثالث کا کردار ادا کرے گا اور تمام فریقین کو سنجیدگی سے سفارتی عمل میں شامل ہونا ہوگا۔
دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اپنی شرائط میں نرمی کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو 14 نکاتی تجاویز ارسال کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بڑی پیشرفت!ایران اور امریکہ کی کشیدگی ختم، ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ دیا
ان تجاویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر بات چیت کو دوطرفہ ناکہ بندی کے بیک وقت خاتمے سے مشروط کیا گیا ہے جبکہ جوہری اور میزائل پروگرام کو فوری مذاکرات کا حصہ نہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے، ایران نے امریکی پابندیوں میں نرمی کے بدلے مستقبل میں جوہری امور پر بات چیت کے امکان کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ کسی بھی ممکنہ حملے سے گریز کی ضمانت بھی طلب کی ہے۔





