امریکا کی کم قیمت فضائی کمپنی اسپرٹ ایئرلائنز نے ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور مالی مشکلات کے باعث اپنی تمام پروازیں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
کمپنی نے ہفتے کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ کسٹمر سروس کی سہولیات بھی فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً دوگنا ہو چکی ہیں۔
34 سال سے کام کرنے والی اسپِرٹ ایئرلائنز دسمبر 2025 تک مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے امریکا کی نویں بڑی ایئرلائن تھی۔ کمپنی پہلے ہی مالی بحران کا شکار تھی اور دو سال کے دوران دوسری مرتبہ دیوالیہ پن سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی تاہم ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے اس کی بحالی کی امیدیں ختم کر دیں۔
کمپنی کے صدر اور سی ای او ڈیو ڈیوس نے اس سے قبل کہا تھا کہ بانڈ ہولڈرز کے ساتھ تنظیمِ نو کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن حالیہ ہفتوں میں ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کمپنی کو منظم انداز میں بند کرنے پر مجبور کر دیا۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے کہا ہے کہ متاثرہ مسافروں کو دیگر ایئرلائنز پر محدود مدت کے لیے رعایتی ٹکٹس فراہم کیے جائیں گے جبکہ انہوں نے مسافروں کو رقم کی واپسی کے لیے کریڈٹ کارڈ کمپنیوں یا ٹریول انشورنس اداروں سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو غیر ملکی ایئرلائنز نے پاکستان کے لیے فضائی آپریشن بحال کر دیا
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً دوگنا ہو چکی ہیں۔
34 سال سے کام کرنے والی اسپِرٹ ایئرلائنز دسمبر 2025 تک مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے امریکا کی نویں بڑی ایئرلائن تھی۔ کمپنی پہلے ہی مالی بحران کا شکار تھی اور دو سال کے دوران دوسری مرتبہ دیوالیہ پن سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی تاہم ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے اس کی بحالی کی امیدیں ختم کر دیں۔





