عظمت اللہ عقاب
فورسز سکول سسٹم گلزار قائد اسلام آبادکی پرنسپل بشرا عرفان نے خیبر پختونخوا کی ڈیرہ اسماعیل خان(ڈی آئی خان) پولیس کے خلاف سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفر نس کرتے ہوئے خاتون پرنسپل کا کہنا ہے کہ28اپریل کو صبح نو بجے خیبرپختونخوا پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص جس کے ساتھ چاردیگر ساتھی تھےمیرے سکول آئے اور بتایا کہ آپ کے خلاف ہمارے پا س ورانٹ ہے ۔
خاتون نے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے اپنے شوہر یا وکیل سے بات کرنے کے لیے موبائل مانگا تو اہلکاروں نے کہا کہ ڈی آئی جی کا حکم ہے کہ اسے باندھ کر اور گھسیٹ کر گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر لایا جائے۔
انہوں نے مذید بتایاکہ انہیں زبردستی ایک پرائیویٹ الٹوگاڑی میں بٹھا کر رکھا گیا اور ان سے ان کا موبائل فون بھی چھین لیا گیا تاکہ وہ کسی سے رابطہ نہ کر سکیں۔
بشرا عرفان نے روتے ہوئے بتایا کہ انہیں دو گھنٹے تک پرائیویٹ گاڑی میں نامحرم مردوں کے درمیان بٹھائے رکھا گیا جو کہ اخلاقی اور قانونی طور پر سراسر غلط ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے نہ کوئی ایف آئی آر دکھائی، نہ کوئی وارنٹ گرفتاری پیش کیا اور نہ ہی اس کارروائی کے دوران کوئی خاتون پولیس اہلکار ساتھ تھی۔
متاثرہ خاتون کے مطابق اہلکار انہیں زبردستی ڈی آئی خان تھانے لے جانا چاہتے تھے اور ان کے سامنے ہی ان کے شوہر کو کال کر کے پانچ بندوں کے لیے ایک دو لاکھ روپے بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا۔
متاثرہ خاتون پرنسپل نے پولیس اہلکاروں کو بیجھے گئے پچاس ہزار روپے کے ٹرانزیکشنز بھی دکھائے۔
بشرا عرفان نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخو، وزیراعلی پنجاب اور اعلیٰ حکام سے فوری تحفظ فراہم کرنے اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔





