سینیٹ کمیٹی: سیاحت کے فروغ میں رکاوٹیں، ذمہ دار اداروں کو طلب کرنے کا فیصلہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر دلاور خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک کے شمالی علاقوں خصوصاً چترال میں سیاحت کے فروغ، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی ترقیاتی پروگرامز پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود، سینیٹر روبینہ قائم خانی، سینیٹر ایمل ولی خان، سینیٹر سید کاظم علی شاہ سمیت متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PTDC) اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے حکام نے بریفنگ دی۔

حکام نے بتایا کہ چترال خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا سیاحتی علاقہ ہے، جہاں ریشون، گرم چشمہ، لاسپور اور کیلاش ویلی سمیت متعدد اہم مقامات موجود ہیں۔ شندور پاس، کیلاش ویلیز اور چترال گول نیشنل پارک کو بھی اہم سیاحتی مراکز قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کیا گیا، جبکہ 2022 میں PTDC کے متعدد موٹلز بھی متعلقہ صوبوں کے حوالے کر دیے گئے۔ خیبرپختونخوا کو مجموعی طور پر 19 سیاحتی جائیدادیں منتقل کی گئیں جن میں چترال کے 5 موٹلز بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ موٹلز اب اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تحت گرین ٹورازم کے سپرد کیے گئے ہیں، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں وفاقی حکومت کا حصہ 10 فیصد ہوگا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ہر سال تقریباً 95 لاکھ مقامی سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے جو 1500 سے بڑھ کر 2700 تک پہنچ چکی ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے چترال میں سیاحتی انفراسٹرکچر کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں انٹرنیٹ، صحت، رہائش اور ایمرجنسی سہولیات کی کمی سیاحت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں بنیادی سہولیات حتیٰ کہ پانی کی عدم دستیابی بھی سنگین مسئلہ ہے۔

انہوں نے سڑکوں کی خراب حالت، محدود فضائی رابطے اور طویل و دشوار سفر کو بھی سیاحتی ترقی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کے لیے این او سی کی شرط بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز پر کنٹرول ناممکن، عالمی تجارت متاثر نہیں ہونے دیں گے: امریکا

سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی سیاحت کے فروغ میں عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مری، نتھیا گلی اور ناران کاغان جیسے علاقوں کے مقابلے میں چترال جیسے خوبصورت مقامات بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے ہدایت کی کہ سیاحتی شعبے میں صوبوں کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا جائے۔ انہوں نے چترال کی ترقی اور سیاحت کے امکانات پر خصوصی اجلاس بلانے کا بھی اعلان کیا، جس میں متعلقہ تمام اداروں کو طلب کیا جائے گا۔

اجلاس میں وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے نیشنل انٹرن شپ پروگرام کی بحالی اور بہتری سے متعلق تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اس کے علاوہ گن اینڈ کنٹری کلب کی کارکردگی اور سہولیات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے مجموعی طور پر سیاحت کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی، بہتر انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ چترال کو بین الاقوامی سطح کا سیاحتی مرکز بنانے کے لیے فوری اقدامات کی سفارش بھی کی گئی۔

Scroll to Top