عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ اور جمعرات کو اچانک بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے اور قیمتیں 100 ڈالر کی نفسیاتی سطح سے نیچے گر گئی ہیں۔
اس کمی کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ پر ہونے والی حالیہ پیشرفت اور توانائی کے طویل بحران کے خدشات میں کمی آنا بتایا جا رہا ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 11 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد یہ 97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے، جو اپریل کے بعد سب سے کم قیمت ہے۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی گر کر 91 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ بڑی کمی ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن کے مطابق امریکہ اور ایران حالیہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک یک صفحاتی مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
مارکیٹ کے رجحانات اس وقت تبدیل ہوئے جب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں تنازع کے خاتمے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اب ایپک فیوری اپنے اختتام کو پہنچے گی اور آبنائے ہرمز ایران سمیت سب کے لیے کھول دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں بحری ناکہ بندی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 126 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں، تاہم جنگ بندی اور بحری راستوں کی ممکنہ بحالی نے مالیاتی منڈیوں میں سکون کی لہر دوڑا دی ہے۔
اگرچہ ایرانی حکام نے موجودہ شرائط کو حتمی حقیقت کے بجائے ’امریکی خواہشات کی فہرست‘ قرار دیا ہے، لیکن سرمایہ کاروں میں تنازع ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔





